Essay On India Gate In Urdu

Essay On India Gate In Urdu

Files available for download:

Link 1: urlin.us/2tuZz8

Link 2: tlniurl.com/2tuZz8

Link 3: bltlly.com/2tuZz8

Here is a possible title and article with html formatting for the keyword "Essay On India Gate In Urdu":

انڈیا گیٹ پر اردو میں مضمون انڈیا گیٹ دہلی کا ایک مشہور عمارتی شاہکار ہے جو برطانوی دور میں بنایا گیا تھا۔ یہ ان سپاہیوں کی یاد میں بنایا گیا تھا جنہوں نے پہلی جنگ عظیم میں شرکت کرکے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ اس پر ان سپاہیوں کے نام لکھے گئے ہیں جو شہید ہوئے تھے۔ انڈیا گیٹ کو سر ایڈون لٹینس نے ڈزائن کیا تھا جو اس وقت برطانوی حکومت کا رئیس معمار تھا۔ اس کا تعمیر کام 1921 میں شروع ہوا اور 1931 میں مکمل ہوا۔ اس کی بلندی 42 میٹر ہے اور اس کا قطر 9.1 میٹر ہے۔ اس کا شکل آرک دو تريمف پیرس کا مشابہت رکھتا ہے جو پیرس کا ایک عمارتی نشان ہے۔ انڈیا گیٹ پر رات کو روشنیوں سے سجایا جاتا ہے جس سے اس کا حسن اور بڑھ جاتا ہے۔ اس کے سامنے امارت شجرات، پودوں، پھولوں اور فاؤنٹین سے آرائش کی گئی ہے جس سے اس کا محول خوبصورت بنتا ہے۔ اس کو دور سے دیدار کرنے والوں کو بات نظر آتا ہے جس پر بستر لگائے جاتے ہیں اور لوگ آرام سے بیٹھ سکتے ہیں انڈیا گیٹ پر قومی تقريبات بھی منائ جاتي هين جيسي كه ريپبلك دي، يادگار شهداء كه ياد مين شهداء كه قرباني كه ياد كي جاتي هي، وغيره. يه عمارت هند كه فخر كه علامت هي اور هند كه تاريخ، ثقافت، وحدت، وطن دوستي، وغيره كه عزاظ ديتي هي. يه عمارت ديكهني والو كه ليئي بهت دلكHere are a few more paragraphs for the article:

انڈیا گیٹ کا ایک اور خاص پہلو یہ ہے کہ اس کے نیچے ایک شمع جلائی جاتی ہے جس کو امر جوانوں کی شمع کہتے ہیں۔ یہ شمع ان تمام سپاہیوں کی یاد میں روشن رکھی جاتی ہے جن کا نام انڈیا گیٹ پر نہیں لکھا گیا تھا یا جن کا لاش نہ ملا تھا۔ یہ شمع دن رات روشن رکھی جاتی ہے اور اس کا نگرانی فوج کرتی ہے۔ انڈیا گیٹ پر سائحوں کا بڑا رش ہوتا ہے جو اس عمارت کو دیدار کرنے آتے ہیں اور اس کی تاریخ اور معنونات سے واقف ہوتے ہیں. اس عمارت کو دیدار کرنا مفت ہے اور اس پر کوئی پابندی نہیں ہوتی. لوگ اس عمارت سے متاثر ہوتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں. انڈیا گیٹ پر اردو میں مضمون لکھنا میرا خوش قسمتی تھا. مجھے اس عمارت کو دیدار کرنا بھی بار بار ملتا رہا. مجھے اس عمارت سے بات نظر آئ تھا جب میرا دادا مجھ ساته ليكه آيه ته. وه مجهي باتين سناتي رهي ته كه كيسي يه عمارت بني ته، كيسي يه عمارت هند كه شان باني ته، وغيره. مجهي ياد هي كه وه كيسي يه عمارت كه سامني بيٹه كه آنكهين سي آنسو بهي ته. وه كهتي ته كه يه عمارت هماري قربانيو كه يادگار هي، هماري وطن دوستي كه نشان هي، هماري ثقافت كه شان هي. مجهي وادا كيا ته كه مجهي به ياد ركهگا. e2b6ddb00d